Jurists from the Hanafi, Maliki, Shafi’i, and Hanbali schools have used this hadith to derive several key rulings:
The hadith is narrated by , who accompanied the Prophet to a garden called Ash-Shaut . sahih bukhari 5255
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا، ان سے حمزہ بن ابی اسید نے اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکلے اور ایک باغ میں پہنچے جس کا نام ”شوط“ تھا۔ جب وہاں جا کر اور باغوں کے درمیان پہنچے تو بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ یہیں بیٹھو، پھر باغ میں گئے، جونیہ لائی جا چکی تھیں اور انہیں کھجور کے ایک گھر میں اتارا۔ اس کا نام امیمہ بنت نعمان بن شراحیل تھا۔ ان کے ساتھ ایک دایہ بھی ان کی دیکھ بھال کے لیے تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو فرمایا کہ اپنے آپ کو میرے حوالے کر دے۔ اس نے کہا کیا کوئی شہزادی کسی عام آدمی کے لیے اپنے آپ کو حوالہ کر سکتی ہے؟ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا شفقت کا ہاتھ ان کی طرف بڑھا کر اس کے سر پر رکھا تو اس نے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسی سے پناہ مانگی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ ابواسید! اسے دو رازقیہ کپڑے پہنا کر اسے اس کے گھر پہنچا آؤ۔ Jurists from the Hanafi, Maliki, Shafi’i, and Hanbali
The narration highlights the exceptional ease ( Taysir ) embedded within Islam. Unlike legal systems that may criminalize "intent" or spiritual traditions that view internal impure thoughts as damning sins, mainstream Islamic theology views the suppression of an evil thought as a meritorious act of virtue. Practical Application in Daily Life Unlike legal systems that may criminalize "intent" or
Refers to the inner self, soul, or psyche.
Whenever a Muslim faces conflict with a spouse, an employee, or a dependent, this hadith should echo in their heart: "He never struck anything with his hand."
At the time, pre-Islamic Arabian society (Jahiliyyah) normalized domestic violence and harsh treatment of servants. The Prophet’s behavior was a revolutionary departure. Aisha’s testimony is a primary source for understanding the prophetic character ( Khuluqin ‘Azim – Quran 68:4).